ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / انگریزی نیوز پورٹل کے ایڈیٹر کے خلاف یو پی پولس نے درج کیا کیس؛ ہلاک ہونے والے کسان کی موت کی رپورٹ ٹویٹ کرنے پر درج ہوا معاملہ

انگریزی نیوز پورٹل کے ایڈیٹر کے خلاف یو پی پولس نے درج کیا کیس؛ ہلاک ہونے والے کسان کی موت کی رپورٹ ٹویٹ کرنے پر درج ہوا معاملہ

Sun, 31 Jan 2021 17:45:04    S.O. News Service

نئی دہلی 31 جنوری  (ایس او نیوز) معروف انگریزی نیوز پورٹل دی وائر کے  ایڈیٹر سدھارتھ ورڈاراجن  کے خلاف  اپنی  نیوز ٹویٹ کرنے  کو لے کر اُترپردیش پولس نے  کیس درج کرلیا ہے۔ دی وائر کی اس رپورٹ میں مرنے والے کسان کے  گھروالوں کا بیان چھاپا گیا تھا جس میں گھروالوں نے الزام  لگایا تھا کہ  یوم جمہوریہ کے دن ٹریکٹر ریلی کے دوران   پولس کی گولی لگنے سے  کسان کی موت  واقع ہوئی تھی۔ دی وائر نے یہ رپورٹ جمعہ کے دن پوسٹ کی تھی جس میں نیوز پورٹل نے  مہلوک کسا ن  نوریت سنگھ کے دادا کے  بیان کا حوالہ دے کر چھاپا تھا جس میں انہوں نے دہلی پولس کی اس بات کو خارج کیا تھا کہ   نوریت سنگھ کی موت ٹریکٹر پلٹنے سے  ہوئی تھی۔انہوں نے  پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں میں سے  ایک ڈاکٹر   کا حوالہ دے کر بتایا تھا ایک ڈاکٹر نے اُنہیں بتایا ہے  کہ ڈاکٹروں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔جبکہ اس سلسلے میں ، دہلی پولیس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کسان کی موت ٹریکٹر کے الٹ جانے کے سبب ہوئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ بعد  ازاں پوسٹ مارٹم  کرنے والے ڈاکٹروں نے ایک دستخط شدہ بیان جاری کیا تھا ، جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ  پوسٹ  مارٹم کے بارے میں لواحقین یا کسی اور سے  کسی بھی ڈاکٹر نے کوئی بات نہیں کی ۔

اتر پردیش پولیس کا کہنا تھا کہ  پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کسان کو  گولی نہیں لگی۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے بریلی کے علاقے کے ایک سینئر پولیس افسر اویناش چندر کے حوالے سے بتایا  کہ   کسان   کی  موت ٹریکٹر کے الٹ جانے سے  ہوئی تھی۔

ذرائع سے ملی خبر کے مطابق دہلی میں مرنے والا کسان اترپردیش کے رام پور کا رہائشی تھا اور رام پور کے ایک مقامی رہائشی کی شکایت پر دی وائر کے ایڈیٹر ورڈا  راجن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دی وائر کے ایڈیٹر کے خلاف  ایف آئی آر میں   الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ عام لوگوں کو اکسا رہے ہیں ، امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسا بیان دے رہے ہیں جو ماحول میں  خلل ڈال رہا ہے۔

واضح رہے کہ  دہلی کے آئی ٹی او کے قریب مظاہرے کے دوران  ایک  کسان ہلاک ہوگیا تھا وہیں پر کسان ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد بھی پھوٹ پڑا تھا۔ کسان کے ٹریکٹر    پلٹنے کی  ویڈیو بھی کافی  گردش  ہوئی تھی۔

سدھارتھ ورداراجن  ساتویں صحافی ہیں جن پر اس معاملے   میں الزام لگایا گیا ہے۔ ان  سے قبل کانگریس لیڈر ششی تھرور سمیت چھ  صحافیوں پربھی  نوئیڈا پولس نے دہلی میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد بھڑکانے اور  ملک سے غداری سمیت دیگر الزامات کے تحت  معاملہ درج کیا تھا۔


Share: